المساعد الشخصي الرقمي

مشاهدة النسخة كاملة : مرزا صاحب کا جھوٹ-1


Khair Talab
22-06-2010, 04:35 PM
جھوٹ بولنا اتنی قابل نفرین عادت ھے کہ تمام مذاہب نے اخلاقی فریضہ جانتے ھوئے اس کی ہمیشہ سے مذمت کری ھے اجمالا۔

ایک شخص بھی اگر ایک جھوٹ کہتا ھوا پکڑا جاتا ھے تو اس کی بات پر اعتبار نہیں رہتا۔ جب یہ بری عادت ایک عام انسان چاہے اس کا تعلق کسی مذہب یا ملت سے کیوں نہ ھو زیب نہیں دیتی تو پھر سوچئیں کہ جو اپنے آم کو کسی خاص مذہب، جماعت کا پیشوا کہے اس کیلئے تو بدرجہ اعلی یہ چیز نہایت بری ھو جاتی ھے اگر جھوٹ اس شخص کی ذات و تحریرات سے متعلق ھو۔



اس بات کی تائید بھی مرزا قادیانی کی تحریرات سے عیاں ھے کہ وہ جھوٹ بولنے کو نہایت معیوب سمجھتے تھے۔

چنانچہ مرزا صاحب فرماتے ھیں:

جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ھے۔

حوالہ: حقیقت الوحی، صفحہ نمبر 206، تاریخ اشاعت 15 مئی 1907۔



اسی طرح ایک اور جگہ فرماتے ھیں:


جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ھو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رھتا۔

حوالہ: چشمہ معرفت، صفحہ نمبر 222۔




لہذاء اب ھم ایک تازہ جھوٹ نقل کرتے ھیں۔



مرزا صاحب فرماتے ھیں:

"اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ھے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاھیے جو وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ مڑھی ھوئی ھیں مثلا صحیح بخاری کی حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفہ کی نسبت خبر دی گئی ھے، خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ھے کہ آسمان سے اس کیلئے آواز آئی گی کہ ھذا خلیفتہ اللہ مھدی اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ھے جو اصح الکتاب بعد کتاب اللہ ھے۔"

حوالہ: شہادت القرآن، صفحہ نمبر 41۔


خیر طلب: مرزا صاحب کے چاھنے والوں یہ میں چیلنج قیامت تک کیلئے دیتا ھوں کہ صحیح بخاری میں یہ حدیث اگر تم لوگ دکھا دو تو میں سب سے بڑا جھوٹا اور میں اس کے بعد احمدی ھونے کو تیار ھوں۔